Subscribe Us

waqiat e serat episode 69 in urdu

 

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں       قسط نمبر69

سلام دینے کے آداب

رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کو سلام فرماتے تو تین مرتبہ السلام علیکم کہتے تا کہ جس کو سلام کہا جارہا ہے وہ سن بھی لے اور سمجھ بھی جائے۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب کمسن بچوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں بھی اپنے سلام سے مشرف فرماتے۔حضرت انس سے ہی روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا۔:”رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرے جو کھیل رہے تھے تو انہیں سرور کائنات (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے السلام علیکم کہہ کر سلامتی کی دعا دی۔“ ابو داؤد،احمد،ابن ماجہ حضرت اسماء بنت یزید سے رویت کرتے ہیں کہ آپ نے کہا کہ میں دوسری خواتین کے ساتھ بیٹھی تھی سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو ہم سب کو سلام فرمایا۔امام ترمذی اور بخاری،الادب المفرد میں لکھتے ہیں کہ حضرت اسماء نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے ہم بہت سی خواتین مسجد میں بیٹھی تھیں۔اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں سلام فرمایا۔امام بخاری،الادب المفرد میں،حضرت اسماء بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ایک روز میں اپنی ہم عمر بچیوں کے ساتھ بیٹھی تھی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اور ہمیں سلام نوازا۔جب کسی کی طرف سے بارگاہ رسالت میں سلام عرض کیا جاتا تو حصور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس کے جواب میں فرماتے:تجھ پر بھی اور سلام بھیجنے والے پر بھی سلام ہو۔حضرت امام ابو داؤد غالب کتان سے نقل کرتے ہیں کہ بنی نمیر کا ایک شخص اپنے باپ سے اور وہ اس کے دادا سے روایت کرتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ا عرض کی۔یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میرا باپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کرتا ہے۔اس کے جواب میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔:تجھ پر اور تیرے باپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتیاں ہوں۔اگر کوئی یہودی سلام دے تو اس کو کیسے جواب دینا چائیے

امام بخاری اور مسلم،حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا۔یہود کاایک گروہ بارگاہ رسالت

(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آیا اور کہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا علیکم۔تم پر بھی۔حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا)نے جب یہودیوں کی بات سنی تو آپ نے غصہ سے بے قابو ہو کر فرمایا:تم پر موت آئے۔اللہ تم پر پھٹکار بھیجے اور اس کا غضب تم پر نازل ہو۔اللہ تعالیٰ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام المومنین کو فرمایا۔:”اے عائشہ (رضی اللہ عنہا)تمہیں نرمی کا برتاؤ کرنا چائیے اور فحش کلامی سے دور رہنا چائیے۔“ آپ نے عرض کی یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)انہوں نے جو بکواس کیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں سنا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ جو جواب میں نے دیا ہے وہ تو نے نہیں سنا۔میں نے وہی چیز ان کی طرف لوٹا دی ہے۔میں نے ان کے بارے میں جو کہا ہے وہ بارگاہ الہیٰ میں قبول ہو گا اور انہوں نے میرے بارے میں جو کہا وہ مسترد کر دیا جائے گا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مشرکین میں سے کسی شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عریضہ لکھا اور اس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سلام پیش کیا۔رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اس کو خط کا جواب دیا توحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کو اس کے سلام کا جواب سلام سے دیا۔

ہاتھ کے اشارہ سے سلام کرنا

امام بخاری نے ادب مفرد میں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ایک مسجد میں سے ہوا۔خواتین کا ایک گروہ وہاں بیٹھا ہواتھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ سے انہیں سلام فرمایا

کسی فاسق کے سلام کا جواب نہ دینا

حضرت کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ جب غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کی غلطی ہم سے سر زد ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب مسلمانو ں کو ہمارے ساتھ گفتگو کرنے سے منع کر دیا۔میں بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا کرتا سلام عرض کرتا اور دل میں یہ کہتا کہ دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لبہائے مبارک نے حرکت کی ہے یا نہیں۔یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک اللہ تعالیٰ نے ہماری توجہ قبول کر کے اپنے حبیب کو اس امر سے آگاہ نہ فرمایا۔امام ابو داؤد اور ترمذی حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا ایک شخص جس نے دوسر خ کپڑے پہنے تھے اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جواب نہیں دیا۔حضرت عمار بن یا سر فرماتے ہیں کہ میں رات کے وقت اپنے گھر آیا میرے ہاتھ پٹھے ہوئے تھے۔میرے گھر والوں نے میرے ہاتھوں پر زعفر ان کا لیپ کر دیا۔ صبح میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا۔نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے نہ میرے سلام کا جواب دیا اور نہ مجھے مرحبا کہا۔البتہ یہ فرمایا کہ اس لیپ کو دھو دو۔میں چلا ٓٓیا اس لیپ کو دھو دیا پھر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوار اور سلام عرض کیا۔اب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سلام کا جواب بھی دیا اور مرحبا بھی فرمایا نیز یہ ارشاد کیا کہ فرشتے کافر کے جنازے پر حاضر نہیں ہوتے اور نہ زعفران سے لیپ کرنے والے اور نہ جنبی کے جنازے پر حاضر ہوتے ہیں۔حضرت امام بخاری الا دب المفرد میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں:ایک دفعہ ایک شخص بحرین سے واپس آیا اور بارگاہ نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں حاضر ہوا۔اس نے سلام عرض کیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا۔اس نے سونے کی انوٹھی پہنی تھی اور ریشمی جبہ اوڑھا ہوا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سلام کا جواب نہ دنیے سے وہ از حد مغمول ہوا۔اپنے گھر لوٹ آیا اور اپنی زوجہ سے اس کی شکایت کی۔اس نیک بخت نے اسے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس تیرے ریشمی جبہ اور تیری سونے کی انگوٹھی کو دیکھا ہے اس لئے سلام کا جواب نہیں فرمایا۔پہلے ان دونوں کو اتارو دو پھر حاضر ہو کر سلام عرض کرو۔چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا فرمایا ابھی ابھی تم میرے پاس آئے تھے اور میں تمہاری طرف ملتفت نہیں ہوا تھا کیونکہ اس وقت تمہارے ہاتھ میں ایک چنگاری تھی۔

کسی کی طرف سے کسی کو سلام پہنچایا

امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیاہے آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرئیل امین آئے اور آکر عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ خدیجہ ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ہیں۔ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں روٹی اور سالن ہے اور پینے کیلئے مشر وب ہے۔جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔:”تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں ان کے رب کی طف سے اور میری طرف سے سلام پہنچائیں۔اور انہیں جنت میں ایک محل کی خوشخبری دیں جو موتیوں سے بنا ہوا ہے۔جس میں نہ شور ہو گا اور نہ تھکاوٹ ہوگی۔ایک روز جبرئیل امین بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت خدیجہ کو سلام فرماتے ہیں جس پر سرکار دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اپنی رفیقہ حیا ت کو اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچایا تو ازراہ ادب آپ نے عرض کی۔اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کا سلام،اس کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔

جب کوئی شخص آئے اور سلام نہ کرے

فتخ مکہ کے روز صفوان بن امیہ نے کلدہ بن جنبل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں روانہ کیا اوران کے ذریعہ دودھ اور کچھ تازہ سبزیاں بھجوائیں۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس وقت وادی کی اونچی جگہ پر تشریف فرماتھے۔کلدہ کہتے ہیں کہ میں حاصر ہوا تو نہ سلام عرض کیا اور نہ اجازت طلب کی:حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ یہاں سے چلے جاؤ پھر لوٹو اور پہلے یہ عرض کرو۔اللہ تعالیٰ کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلامتیاں ہوں کیا مجھے داخل ہونے کی اجازت ہے۔یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب صفوان مشرف باسلام ہو چکے تھے۔اسلامی معاشرہ میں ان چیزوں کی جو اہمیت ہے اس کا جاگر کر نے کیلئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے اس کو اس محفل سے نکل جانے کا حکم دیا اور واپسی کے وقت پھر سلام عرض کرنے اور اجامت طلب کرنے کی تلقین فرمائی۔امام بخاری الادب المفرد میں روایت کرتے ہیں کہ ابی موسیٰ اور ابن مسعود اور ابو سعید الحذری رضی اللہ عنہم نے راویت کی کہ انہیں ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہمراہی میں حضرت سعد بن عبادہ کی ملاقات کیلئے جانے کا اتفاق ہوا۔جب وہاں پہنچے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام فرمایا لیکن کوئی جواب نہ آیا۔دوسری مرتبہ پھر تیسری مرتبہ سلام فرمایا اور کوئی جواب نہ آیا تو سرکار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو چیز ہم پر لاز م تھی وہ ہم نے ادا کردی۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس مڑے۔حصرت سعد نے اس وقت اجازت دی اور عرض کی یار سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس ذات کی قسم جس نے خضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ نبی بنا کر مبعوث فرمایا ہے جتنی بار بھی حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام فرمایا میں نے سنا اور اس کا آہستہ سے جواب دیا لیکن میں نے بظاہر یہ خاموشی اس لئے اختیار کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بار بار سلام فرمائیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان پہیم سلاموں سے مجھے اور میرے اہل بیت کو برکتیں نصیب ہوں۔حضرت سعد کا یہ جملہ غور طلب ہے جو ان کے جذبہ محبت و عقیدت کی غمازی کر رہا ہے۔“(ضیاء النبی ج5ص511تا516)

 

waqiat e serat episode 69 in urdu waqiat e serat episode 69 in urdu Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 21, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.